نذیر بیگم ہمارے ملک کی ایک مشہور مگر اب بھولی بسری گلوکارہ ہیں جو ان دنوں لاہور میں مقیم ہیں، نذیر بیگم نے ۱۹۵۰ کی دہائی سے پاکستانی فلمی دنیا میں قدم رکھا مگر ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کراچی اور پھر لاہور سے بھی منسلک رہیں، اس دوران انہوں نے درجن کے قریب قومی نغمات ارضِ وطن کی فضاؤں میں بکھیرے،۱۹۶۵ کی جنگ میں نڈر دلیر بچیاں سری نگر کی بیٹیاں اور چلے میریا سیبر جیسے نغمات گاکر قومی نغمات میں اپنے یادگار نقوش امر کیے تاہم ان کے قومی نغمات ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے کیونکہ وہ گراموفون ریکارڈز میں منتقل نہیں ہوئے تھے، تاہم ۹۷۱ کی جنگ میں ان کے دو نغمات جو بنگالی اور سندھی دھن پر تھے بے حد مقبول ہوئے، جو ریڈیو کے تمام استیشنز سے نشر ہوتے تھے، اتفاق سے ان کا گراموفون ریکارڈ ای ایم آئی نے جاری کیا جو اب نایاب ترین ہے۔ <br />نذیر بیگم کا سندھی لوک موسیقی سے ہم آہنگ قومی نغمہ ’’میرے پاک وطن‘‘ میرے مجموعہٗ قومی نغمات میں سے آپ سب کے لیے پیشِ خدمت ہے :) امید ہے جو لوگ اس دور میں تھے ان کو ماضی ضرور یاد آئے گا :) <br /> جنگِ دسمبر ۱۹۷۱ درحقیقت ہم جیت چکے تھے کہ مغربی محاذ پر ہمارا مضبوط دفاؑ جاری تھا، ادھر مشرقی پاکستان میں بھی اگر حکومتِ وقت چاہتی تو حالات قابو آسکتے تھے کیونکہ وہی بنگالی جنہوں نے مجیب الرحمن کو اپنا لیڈر مانا تھا صرف ۴ برس بعد اس کا جنازہ بھی پڑھنے کو تیار نہ تھے ، اس پر جمیل الدین عالی صاحب نے کیا خوب کہا ہے کہ <br />وہ بے ریا مجاہد پابند تھے وفا کے <br />بھٹکا جو سفینہ تھے جرم نا خدا کے
