<br />📜 تفصیل (اسلامی نقطۂ نظر سے)<br /><br />1. داڑھی کے بال اکھاڑنا: مرد کے لیے داڑھی منڈوانا یا بال اکھاڑنا مکروہِ تحریمی بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک حرام ہے، کیونکہ یہ سنتِ نبوی کے خلاف ہے۔<br /><br /><br />2. مونچھ کے بال کاٹنا: مونچھیں پست کرنا سنت ہے، لیکن بال اکھاڑنا ضروری نہیں۔<br /><br /><br />3. ابرو کے بال اکھاڑنا (نَمص): مرد اور عورت دونوں کے لیے بغیر شرعی عذر کے حرام ہے۔<br /><br /><br />4. چہرے کے غیر ضروری بال: عورت کے لیے اگر شوہر اجازت دے تو ہونٹ یا ٹھوڑی کے زائد بال ہٹائے جا سکتے ہیں۔<br /><br /><br />5. نظافت کے لیے بال ہٹانا: ناک، کان یا ماتھے کے زائد بال صاف کرنا جائز ہے۔<br /><br /><br />6. مردوں کے لیے چہرے کی تبدیلی: فیشن یا خوبصورتی کے نام پر چہرے کی قدرتی بناوٹ بدلنا ممنوع ہے۔<br /><br /><br />7. عورتوں میں مردانہ بال: اگر چہرے پر زیادہ سخت بال ہوں جو مردانہ شکل دیتے ہوں تو علاج یا صفائی جائز ہے۔<br /><br /><br />8. ابدی تبدیلی: مستقل ہٹانے (Laser وغیرہ) کا حکم بھی بال کی نوعیت اور ضرورت پر منحصر ہے۔<br /><br /><br />9. قربانی کے دن: قربانی کرنے والے کے لیے ذوالحجہ کے ابتدائی دنوں میں بال نہ کاٹنا مستحب ہے۔<br /><br /><br />10. نیت کا اثر: نیت اگر فیشن یا غیر مسلموں کی مشابہت کی ہو تو یہ گناہ میں شمار ہوتا ہے۔<br /><br /><br /><br /><br /><br /><br />#چہرےکےبال<br />#اسلامیاحکام<br />#داڑھیکیسنت<br />#چہرےکیصفائی<br />#نمص<br />#اسلامکٹیچنگز<br />#سنتنبوی<br />#حکمشرعی<br />#بالاکھڑنا<br />#دینیعلم<br /><br />