بالکل! یہاں ایک اور خوبصورت، معنی خیز اور دل کو چھو جانے والی کہانی پیش ہے، جیسی آپ چاہتے ہیں—نرمی، اخلاق اور سبق کے ساتھ:<br /><br /><br />---<br /><br />دو گھروں کی زینت — نیا انداز<br /><br />ایک محلے میں دو گھر آمنے سامنے تھے۔<br />پہلا گھر بہت شاندار، اونچی دیواریں، خوبصورت لائٹس، ہر وقت سجا سجایا۔<br />دوسرا گھر سادہ، چھوٹا سا، پر سکون۔<br /><br />ان دونوں گھروں میں دو عورتیں رہتی تھیں:<br />ریحانہ اور سیدہ۔<br /><br />ریحانہ کا گھر — ظاہری شان<br /><br />ریحانہ کے گھر میں داخل ہوں تو لگتا تھا جیسے ہوٹل کا لابی ہو۔<br />ہر چیز برانڈڈ، ہر کمرہ سجا ہوا، مگر…<br />ہر کمرے سے تلخی کی آوازیں آتی تھیں۔<br /><br />کہیں ساس بہو پر ناراض،<br />کہیں شوہر بیوی سے بد مزاجی سے بات کرتا،<br />کہیں بچے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہوتے۔<br /><br />گھر چمکتا تھا مگر چہرے بجھے ہوئے تھے۔<br /><br />سیدہ کا گھر — باطنی شان<br /><br />سیدہ کا گھر بہت سادہ تھا۔<br />پرانے صوفے، سادہ برتن، چھوٹا کچن…<br />مگر گھر میں داخل ہوتے ہی محسوس ہوتا:<br /><br />“یہاں بہت پیار ہے۔”<br /><br />خاندان کے لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے،<br />سیدھی بات کرتے، ناراضی بھی محبت سے کرتے،<br />کھانا کم ہو تو سب مل کر بانٹ لیتے۔<br /><br />فرنیچر کم تھا مگر خوشیاں زیادہ تھیں۔<br /><br /><br />---<br /><br />ایک دن…<br /><br />ریحانہ نے اپنی کھڑکی سے دیکھا کہ سیدہ کے گھر میں سب ایک ساتھ بیٹھ کر ہنس رہے ہیں۔<br />وہ سوچ میں پڑ گئی:<br /><br />"میرے پاس سب کچھ ہے… پھر بھی دل خالی کیوں ہے؟"<br /><br />وہ پہلی بار خود چل کر سیدہ کے گھر گئی۔<br /><br />سیدہ نے مسکرا کر کہا:<br />"آؤ بہن! ہمارے سادہ گھر میں صرف دو چیزیں زیادہ ہیں — محبت اور شکر۔"<br /><br />ریحانہ نے آہستہ سے کہا:<br />"بس یہی تو میرے گھر میں کم ہے…"<br /><br /><br />---<br /><br />سبق<br /><br />گھر کی زینت مہنگے پردے یا فرنیچر نہیں… گھر والوں کا اچھا اخلاق ہے۔<br />جس گھر میں دل نرم ہوں، وہاں اللہ کی رحمت اترتی ہے۔<br />اور جہاں دل سخت ہوں… وہاں سونے کی دیواریں بھی سکون نہیں دے سکتیں۔<br /><br />
