<p>انڈیا-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف سرینگر شہر اور اس سے ملحقہ علاقوں کے کانگریس کارکنان نے احتجاج کیا۔ کانگریس کی جانب سے جموں میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ </p><p>پارٹی رہنماؤں کے مطابق یہ احتجاج پیر کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز کے موقع پر منعقد کیا گیا تاکہ پارٹی اور اس کی قیادت کے اس مطالبے کی حمایت کی جا سکے جس میں اس تجارتی معاہدے کو بھارت کے معاشی مفادات اور قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔<br>کانگریس سے وابستہ کارکنان و لیڈران سرینگر میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں جمع ہوئے اور ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پارٹی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ان کے لیڈران اور کارکنان کو حراست میں لیکر سرینگر میں ہو رہے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی اجازت ہی نہیں دی گئی تاہم جو کارکنان سرینگر پارٹی ہیڈکوارٹر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، انہیں پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری نے گھیرے میں لے لیا اور انہیں ڈویژنل کمشنر کے دفتر تک مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ </p><p> اس احتجاج میں سرینگر ضلع کے کوآرڈینیٹر نظام الدین بٹ جو کہ ضلع بانڈی پورہ سے منتخب رکن اسمبلی بھی ہے کے علاوہ دیگر زعماء نے شرکت کی۔</p>
