<p>سرینگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ہفتہ کے روز سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے بازی کی اور عوام پر بڑھتے ہوئے ٹیکس کے بوجھ اور یوٹیلیٹی چارجز کے بوجھ کو اجاگر کرتے ہوئے عمر عبداللہ کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔</p><p>ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے پی ڈی پی کے احتجاجی کارکنان سرینگر کی پریس کالونی میں جمع ہوئے اور انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ پہلے ہی محدود آمدنی سے دوچار عوام پر مزید مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔ پی ڈی پی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب "بجلی کے بلوں، پانی کے چارجز اور میونسپل ٹیکسز کے حوالے سے شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔" انہوں نے بحیثیت اپوزیشن جماعت عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔</p><p>پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری خورشید عالم نے احتجاج کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 31 مارچ کشمیری عوام کے لیے بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے باعث ایک "یومِ سیاہ" بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا: "عوام شدید ٹیکس بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ بھاری بجلی کے بل بھیجے جا رہے ہیں، پانی کے چارجز طلب کیے جا رہے ہیں، جبکہ ملازمین کو تنخواہیں بھی نہیں مل رہی ہیں۔"</p>
