<p>سرینگر (جاوید ڈار) : نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر اور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بدھ کے روز زور دے کر کہا کہ "بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ ہی واحد مؤثر راستہ ہے اور جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں رہی ہے۔" </p><p>میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فارق نے کہا کہ وہ اس بات پر شکر گزار ہیں کہ امریکہ اور ایران جیسے ممالک بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے آمادہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا: "جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ نہ کبھی تھی اور نہ کبھی ہوگا۔ اس لیے میں ان تمام ممالک کو مبارکباد دیتا ہوں جو بیٹھ کر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔"</p><p>انہوں نے اس پورے تنازعے، جنگ، بربادی اور ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور پوری دنیا متاثر ہوئی ہے، خاص طور پر عالمی توانائی وسائل اور معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔" </p><p>فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ "طویل کشیدگی نے جموں و کشمیر کے ان لوگوں کو بھی متاثر کیا ہے جو خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور جن کی روزی روٹی خطے کے استحکام پر منحصر ہے۔" امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "انسانیت کو جیتنا چاہیے۔ ہمیں جنگ نہیں بلکہ امن چاہیے،" اور مزید کہا کہ "جاری تنازع صرف عالمی مسائل کو مزید بڑھائے گا۔"</p><p>انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "بھارت کو تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے چاہئیں اور امن کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ پاکستان سمیت تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ تنازعات سے دور ہو کر بھائی چارے کا راستہ اپنائیں۔"</p>
