علی بن عیسی علیہ الرحمہ وغیرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے اس جگہ پر حضور ﷺ مراد ہیں اور بعد کی تمام صفتیں آپ ﷺ کے لیے ہیں، دوسروں نے کہا: اس سے جبرئیل علیہ السلام مراد ہیں ، اس بنا پر بعد کی تمام صفتیں ان کی ہوں گی، ’’ وَلَقدْرَاٰہُ ‘‘ (بیشک انھوں نے اس کو دیکھا) یعنی حضور ﷺ نے ملاحظہ فرمایا، ایک روایت میں ہے حضور ﷺ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا یا جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اپنی صورت میں دیکھا، اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:<br /> ﴿وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ﴾ <br />اصل کتاب الشفاء میں بظنین (بالظاء) مرقوم ہے، لیکن ہمارے اطراف میں بضنین (بالضاد) ہے۔ (مترجم) <br /> ترجمہ : اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ (التکویر:۲۴)<br /> ضنین کو اگر ظاء سے پڑھا جائے تو اس کے معنی متہم کے ہوں گے اور ضاد سے پڑھا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ ﷺ لوگوں کو دعوت و تذکیر اور علم و حکمت کی باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں ہیں۔ یہ صفت بالاتفاق حضور ﷺ کی ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے: <br /> ﴿نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَ (القلم:۱)﴾<br /> اللہ عزوجل نے ان آیات کریمہ میں جو بھی بڑی قسم کھائی ہے اس لیے کہ حضور ﷺ کی پاکی بیان کی جائے جس کو کفار آپ ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور آپ ﷺ کی وہ تکذیب کرتے ہیں، اللہ عزوجل نے محبت کی باتیں کر کے مسرور کیا اور آپ ﷺ کی امیدوں کو فراخ کیا، <br /><br />کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ<br /> مختصر نام: الشفا شریف <br />مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ<br /> مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ<br />پانچویں فصل | اللہ کا اس مقام و مرتبہ کی قسم یاد فرمانا جو بارگاہ الہی میں حضور ﷺ کو حاصل ہے (حصہ 9)<br /><br />#Shorts<br />#AshShifa<br />#ProphetMuhammad<br />#SeeratunNabi<br />#IslamicKnowledge<br />#QaziIyaz<br />#QadiIyad<br />#QuranicTafseer<br />#QuranTafsir<br />#Seerah<br />#Tafseer<br />#Sunnah<br />#ShanEMustafa <br />#ThinkGoodGreen
