اپنے اس خطاب میں یہ فرمایا:<br /> ﴿مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ﴾<br /> تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں (القلم:۲)<br /> یہ آیتیں آپ ﷺ کے خطاب میں انتہائی لطف و مہربانی کی حامل ہیں اور بولنے میں اعلی درجہ کے آداب کا لحاظ ہے، اس کے بعد اللہ عزوجل نے ان دائمی نعمتوں کی یاد دہانی کرائی جو آپ ﷺ پر اس کی بارگاہ میں ہے اور وہ غیر منقطع ثواب بتائے جس کو کوئی شمار نہیں کر سکتا، یہ سب کچھ احسان جتلانے کے لیے نہیں، کیونکہ اللہ عز وجل نے فرمایا ہے:<br /> ﴿وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ﴾<br /> اور ضرور تمھارے لیے بے انتہا ثواب ہے۔( قلم: ۳) <br /> پھر آپ ﷺ کی ان باتوں سے تعریف کی جو آپ ﷺ کو مرحمت فرمائی اور بتلائی ہیں اور آپ ﷺ کی عظمت کو دو بالا کرنے کے لیے دو حرف تاکید سے کلام کو مستحکم کیا اور فرمایا:<br /> ﴿وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴾<br /> اور بیشک تمھاری خوبو (خوبی/اخلاق) بڑی شان کی ہے۔( القلم:۴)<br /> ’’ خلق عظيم ‘‘ کی تفسیر میں بعض نے کہا قرآن اور بعض نے اسلام اور بعض نے آپ ﷺ کی عادت کریمہ مراد لی ہے اور بعض نے کہا کہ آپ ﷺ کا ارادہ ہی نہیں مگر جو اللہ عزوجل چاہے۔ <br /><br />کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ<br /> مختصر نام: الشفا شریف <br />مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ<br /> مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ<br />پانچویں فصل | اللہ کا اس مقام و مرتبہ کی قسم یاد فرمانا جو بارگاہ الہی میں حضور ﷺ کو حاصل ہے (حصہ 10)<br /><br />#Shorts<br />#AshShifa<br />#AlQalam<br />#تفسیر_القلم<br />#KhuluqinAzeem<br />#ProphetMuhammad<br />#QaziAyaz<br />#IslamicKnowledge<br />#QuranicVerse<br />#ShanEMustafa<br />#KhuluqinAzeem<br />#AlShifa<br />#IslamicShorts<br />#تفسیر_القلم<br />#ThinkGoodGreen<br />
