شانِ مصطفیٰ ﷺ کا وہ روشن باب جس میں اللہ عزوجل نے اپنے محبوب ﷺ کی قیامِ لیل کی مشقت پر خود شفقت فرماتے ہوئے سورۂ طٰهٰ کی آیاتِ مبارکہ نازل فرمائیں۔<br />یہ دل آویز واقعہ امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ کی مستند کتاب 'الشفا شریف' میں محفوظ ہے جس کی سند ربیع بن انس رضی اللہ عنہ سے بالاسناد منقول ہے۔<br /><br />اللہ عز وجل فرماتا ہے:<br />﴿طٰهٰ(1) مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤى(2)﴾ ( طٰهٰ:۱،۲)<br />اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ تم مشقت میں پڑو۔<br />’’ طہ‘‘ کی تفسیر میں بعض نے کہا کہ میں حضور ﷺ کے ناموں سے ایک نام ہے اور بعض نے کہا کہ یہ اللہ عزوجل کا اسم ہے اور بعض نے اس کے معنی ’’ یار جل‘‘ (اے مرد) اور ’’ یا انسان‘‘ کہے ہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ حروف مقطعات ہیں جو چند معنی میں ہیں۔<br /><br />چنانچہ واسطی علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ’’ یا طاهر یا ھادی‘‘ ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ (وط ء) اور (ھا) سے کنایہ ہے یعنی زمین پر اپنے دونوں قدموں سے کھڑے ہو جائیے اور ایک قدم پر اعتماد کر کے اپنی جان کو مشقت میں نہ ڈالیے، (واللہ اعلم) کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے محبوب ہم نے یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ آپ ﷺ مشقت میں پڑیں۔ یہ آیہ کریمہ اس وقت اتری جبکہ حضور ﷺ بیداری اور قیام لیل میں بڑی مشقت اٹھاتے تھے، جیسا کہ ربیع بن انس رضی اللہ عنہ سے بالاسناد یہ حدیث مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ جب نماز پڑھتے تو ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر دوسرا پاؤں اٹھا لیتے تھے۔<br /><br />کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ<br /> مختصر نام: الشفا شریف <br />مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ<br /> مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ<br />چھٹی فصل | اللہ عزوجل کا حضور ﷺ کو مورد شفقت و کرم بنانا (حصہ 1)<br /><br />#طہ<br />#نماز<br />#الشفا_شریف<br /><br />#Shorts<br />#IslamicShorts<br />#ProphetMuhammad<br />#AshShifa<br />#Taha<br />#SiratunNabi<br />#IslamicKnowledge<br />#QuranTafseer<br />#Sunnah<br />#سورۃطٰهٰ<br />#تفسیر<br />#قاضی_عیاض<br />#سورۂ_طٰهٰ<br />#قیام_اللیل<br />#ThinkGoodGreen
